نئی دہلی، 22؍جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی) جائیداد کی وراثت پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آگیا- سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ بیٹیاں بغیر وصیت کے مرنے والے باپ کی خود خریدی گئی جائیداد کی وارث ہوں گی- بیٹیوں کو خاندان کے دیگر افراد پر ترجیح دی جائے گی جیسے مرنے والے باپ کے بھائیوں کے بیٹے اور بیٹیاں - اگر کوئی ہندو خاتون بغیر وصیت کے مر جاتی ہے تو اسے اپنے والد یا والدہ کی طرف سے وراثت میں ملنے والی جائیداد اس کے والد کے وارثوں کو جائے گی- جبکہ جو جائیداد اسے اپنے شوہر یا سسر سے وراثت میں ملی ہے، وہ شوہر کے وارثوں کو جائے گی- یہ فیصلہ ہندو جانشینی ایکٹ کے تحت ہندو خواتین اور بیواؤں کے جائیداد کے حقوق سے متعلق ہے-جسٹس ایس عبدالنذیر اور جسٹس کرشنا مراری کی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا ہے - دراصل یہ فیصلہ مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر آیا ہے، جس نے تمل ناڈو کے ایک خاندان کی بیٹیوں کی تقسیم کے معاملے کو خارج کر دیا تھا- عدالت نے اپنے فیصلے میں ہندو جانشینی ایکٹ کی دفعات کی وضاحت کی ہے- عدالت نے کہا ہے کہ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد جائیداد کے حقوق کے حوالے سے مرد اور عورت کے درمیان مکمل مساوات قائم کرنا ہے- محدود جائیداد کے تمام تصورات کو مکمل طور پر ختم کرنے کیلئے خواتین کے حقوق کو مطلق قرار دیا گیا ہے-عدالت نے کہا کہ اس قانون نے ہندوؤں کی جانشینی کے قانون کو تبدیل کیا اور خواتین کو جائیداد کے حوالے سے حقوق دیے جو اس وقت تک نہیں تھے- یہ ایکٹ وراثت کا ایک یکساں اور جامع نظام وضع کرتا ہے -یہ ایکٹ ہر اس شخص پر نافذہوتا ہے جو کسی بھی شکل میں مذہب سے ہندو ہے، بشمول ویراشائیو (لنگائیت) یا برہمو پرتھنا یا آریہ سماج کے پیروکار اور یہاں تک کہ بدھ مت، جین مت یا سکھ مت کے لوگوں پر بھی نافذ ہوتا ہے- اروناچل گونڈر کے قانونی ورثاء کی اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مدراس ہائی کورٹ اور نچلی عدالت کے فیصلوں کو ایک طرف رکھ دیا، اور کہا کہ بدقسمتی سے کسی بھی عدالت نے وضع کردہ قانون اور نظم کو نظر انداز کیا ہے- موجودہ کیس میں عدالت نے پایا کہ زیر غور جائیداد یقینی طور پر مارپا گونڈر کی خود حاصل کردہ جائیداد تھی- عرضی گزار کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا آنجہانی گونڈر کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی بیٹی کوپی امل جائیداد کی وارث ہوگی اور جائیداد کو لواحقین کے ذریعے منتقل نہیں کیا جائے گا؟ سپریم کورٹ اس سوال پر غور کر رہی تھی کہ کیا اکلوتی بیٹی اپنے باپ کی علاحدہ جائیداد کی وارث تھی (ہندو جانشینی ایکٹ1956 کے نفاذ سے پہلے)-دوسری طرف بنچ نے ہندو جانشینی ایکٹ کی دفعہ14/ اور15کا حوالہ دیا- بنچ نے کہا ہے کہ اگر کوئی ہندو عورت بغیر اولاد کے فوت ہو جاتی ہے تو اس کے والد یا والدہ سے وراثت میں ملنے والی جائیداد اس کے والد کے ورثاء کو دے دی جائے گی، جبکہ اس کے شوہر یا سسر سے ملنے والی جائیداد شوہر کے ورثاء کو جائے گی-